TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
مشکوۃ شریف
ایمان کا بیان
شیطان وسو سے پیدا کرے تو اللہ کی پناہ مانگو
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَاْتِی الشَّےْطَانُ اَحَدَکُمْ فَےَقُوْلُ مَنْ خَلَقَ کَذَا مَنْ خَلَقَ کَذَا حَتّٰی ےَقُوْلَ مَنْ خَلَقَ رَبَّکَ فَاِذَاَ بَلَغَہُ فَلْےَسْتَعِذْ بِاللّٰہِ وَلْےَنْتَہِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)-
" اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! تم میں سے بعض آدمیوں کے پاس شیطان آتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا اور اس چیز کو کس نے پیدا کیا؟ تا آنکہ پھر وہ یوں کہتا ہے کہ تیرے پروردگار کو کس نے پیدا کیا؟ جب نوبت یہاں تک آجائے تو اس کو چاہیے کہ اللہ سے پناہ مانگے اور اس سلسلہ کو ختم کر دے۔" (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح شیطان انسان کے روحانی ارتقاء کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس کا بنیادی نصب العین ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو، جو اللہ کی ذات و صفات پر ایمان و یقین رکھتے ہیں، ورغلانے اور بہکانے میں لگا رہے ہیں، یہی نہیں کہ وہ فریب کاری کے ذریعہ انسان کے نیک عمل اور اچھے کاموں میں رکاوٹ اور تعطل پیدا کرنے کی سعی کرتا رہے بلکہ اس زبردست قدرت کے بل پر کہ جو حق اللہ تعالیٰ نے تکوینی مصلحت کے تحت اس کو دی ہے۔ وسوسہ اندازی کے ذریعہ انسان کی سوچ فکر اور خیالات کی دنیا میں مختلف انداز کے شبہات اور برائی بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جن لوگوں کی سوچ' فکر اور خیالات کے سر چشموں پر ایمان و یقین کی مضبوط گرفت ہوتی ہے وہ اپنے ایمان کی فکری اور شعوری طاقت سے شیطان کے وسوسوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں ، چنانچہ اس حدیث میں جہاں بعض شیطانی وسوسوں کی نشان دہی کی گئی ہے وہیں اس پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو ان وسوسوں کو غیر موثر اور ناکارہ بنانے سے تعلق رکھتا ہے ۔ فرمایا گیا ہے کہ پہلے تو شیطان اللہ کی مخلوقات اور موجودات کے بارہ میں وسوسہ اندازی کرتا ہے، مثلاً فکر و خیال میں یہ بات ڈالتا ہے کہ انسان کو وجود کس نے بنایا، یہ زمین و آسمان کی تخلیق کس کا کارنامہ ہے ، چونکہ اللہ کی ذات و صفات پر ایمان رکھنے والوں کی عقل سلیم کائنات کی تمام مخلوقات و موجودات کی تخلیقی و تکوینی نوعیت کا بدیہی شعور و ادراک رکھتی ہے اس لیے مخلوقات کی حد تک شیطان کی وسوسہ اندازی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی لیکن معاملہ وہاں نازک ہو جاتا ہے جب یہ سلسلہ نازک ہو کر ذات باری تعالیٰ تک پہنچ جائے اور وسوسہ شیطانی دل و دماغ سے سوال کرے جب یہ زمین و آسمان اور ساری مخلوقات اللہ کی پیدا کردہ ہیں تو پھر خود اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ فرمایا گیا کہ جوں ہی یہ وسوسہ پیدا ہو اپنے اللہ سے پناہ مانگو اور اپنے ذہن سے اس فاسد خیال کو فوراً جھٹک دو تاکہ وسوسہ شیطانی کا سلسلہ منقطع ہو جائے اللہ کی پناہ چاہنے کا مطلب محض زبان سے چند الفاظ ادا کر لینا نہیں ہے بلکہ یہ کہ ایک طرف تو اپنے فکر و خیال کو یکسو کر کے اس عقیدہ یقین کی گرفت میں دے دو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے، وہ واجب الوجود ہے اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اور دوسری طرف ریاضیت و مجاہدہ اور ذات باری تعالیٰ کے ذکر و استغراق کے ذریعہ اپنے نفس کے تزکیہ اور ذہن و فکر کے تحفظ اور سلامتی کی طرف متوجہ رہو۔ وسوسہ کی راہ روکنے کا ایک فوری موثر طریقہ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجلس بدل دی جائے۔ یعنی جس جگہ بیٹھے یا لیٹے ہوئے اس طرح کا وسوسہ پیدا ہو وہاں سے فورا ہٹ جائے اور کسی دوسری جگہ جا کر کسی کام اور مشغلہ میں لگ جائے اس طرح دھیان فوری طور پر ہٹ جائے گا اور وسوسہ کی راہ ماری جائے گی۔
-
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَزَالُ النَّاسُ ےَتَسَآءَ لُوْنَ حَتّٰی ےُقَالَ ھٰذَا خَلَقَ اللّٰہُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ شَےْئًا فَلْےَقُلْ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)-
" اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! لوگ ہمیشہ اپنے دل میں مخلوقات وغیرہ کے بارے میں خیالات پکارتے رہیں گے، یہاں تک کہ کہا جائے گا (یعنی دماغ میں یہ وسوسہ آئے گا) کہ اس تمام مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے (تو) اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ پس جس آدمی کے دل و دماغ میں اس قسم کا کوئی خیال اور وسوسہ پیدا ہو تو وہ یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر اور اس رسول پر ایمان لایا۔" (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح شیطان کی وسوسہ اندازی اور گمراہ کن خیالات کی روش سے بچنے کے لیے ایک طریقہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے موقع پر (میں اللہ پر اس کے رسول پر ایمان لایا) پڑھنا چاہیے، اس کلمہ کے ورد کے ذریعہ زبان یہ اقرار و اعتراف کرے گی کہ میں اللہ کی ذات پر اور اس کے سچے رسول پر ایمان رکھتا ہوں جس نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ اس کی ذات واجب الوجود ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ تمام جہاں کا اور تمام چیزوں کا وہی خالق ہے وہی دل و دماغ میں ان باتوں کی صحت و صداقت کا یقین راسخ ہوگا اور ذہن و فکر کو برے خیالات سے تحفظ و سلامتی حاصل ہوگی جس کے سبب شیطان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
-