رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ کے وقت منبر پر کھڑے ہو کر عبداللہ ابن مسعود کو مسجد میں بلانا

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا اسْتَوَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ اجْلِسُوْا فَسَمِعَ ذٰلِکَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَجَلَسَ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ فَرَأَہُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ تَعَالَ یَا عَبْدَاﷲِ بْنَ مَسْعُوْدِ۔ (رواہ ابوداؤد)-
" اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک مرتبہ) جمعے کے روز (خطبے کے لیے) منبر پر کھڑے ہوئے اور صحابہ سے فرمایا کہ (خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ ارشاد سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں آجاؤ۔" (سنن ابوداؤد) تشریح علامہ طیبی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ منبر پر خطبہ کے لیے کھڑے ہونے کی صورت میں کلام کرنا جائز ہے مگر حنفیہ کے نزدیک خطیب کے لیے خطبے کی حالت میں کلام کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ وہ کلام امربالمعروف کے طور پر نہ ہو (مگر خطیب کو چاہیے کہ امربالمعروف کے سلسلہ میں اگر کسی سے کچھ کہے تو عربی زبان میں کہے اگر کسی اور زبان میں کہے گا تو مکروہ ہو گا) حضرت علامہ ابن حجر رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ بظاہر یہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبے کے لیے منبر پر کھڑے ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین میں سے کسی کو اس وقت نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتے دیکھ لیا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیٹھنے کا حکم فرمایا کیونکہ خطبے کے لیے منبر پر خطیب کے بیٹھنے کے وقت، نماز پڑھنی حرام ہے جیسا کہ تمام علما کا متفقہ مسلک ہے۔
-