حضرت ابوبکر کے حق میں خلافت کی وصیت

وعن عائشة قالت : قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم في مرضه : ادعي لي أبا بكر أباك وأخاك حتى أكتب كتابا فإني أخاف أن يتمنى متمن ويقول قائل : أنا ولا ويأبى الله والمؤمنون إلا أبا بكر " . رواه مسلم وفي " كتاب الحميدي " : " أنا أولى " بدل " أنا ولا "-
اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں (ایک دن ) مجھ سے فرمایا کہ اپنے باپ ابوبکر اور اپنے بھائی (عبد الرحمن ) کو میرے پاس بلوا لو کہ میں ایک تحریر لکھوا دوں دراصل مجھ کو اندیشہ ہے کہ (اگر میں نے ابوبکر کی خلافت کے بارے میں نہ لکھوایا تو ) کہیں خلافت کی کوئی آرزو نہ کرے ، اور کوئی کہنے والا یہ نہ کہے کہ (خلافت کا مستحق ) میں ہوں حالانکہ (ابوبکر کی موجود گی میں کوئی بھی شخص خلافت کا مستحق نہیں ہوسکتا ) ابوبکر کے علاوہ کسی کی خلافت کو نہ اللہ چاہے گا اور نہ اہل ایمان تسلیم کریں گے ، (مسلم ) اور کتاب حمیدی میں انا ولا کے بجائے انا اولی (خلافت کا سب سے بڑا مستحق میں ہوں ) کے الفاظ ہیں۔" تشریح : طیبی نے قاضی عیاض کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ یہ روایت " اجود" ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کی طرف واضح اشارہ ہے۔ رہا روافض کا یہ کہنا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت پر نص وارد ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے استحقاق خلافت کی وصیت کی تھی تو یہ بالکل بے اصل بات ہے اور ایک لغو وباطل دعویٰ ہے تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں نہ کوئی نص وارد ہے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی زبانی یا تحریری وصیت کی تھی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس دعویٰ کی سب سے پہلی تردید خود حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے ہوئی تھی ۔ جب کسی نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو قرآن میں موجود نہیں ہے ؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جواب دیا : نہیں میرے پاس جو کچھ بھی ہے وہ وہی ہے جو اس صحیفہ میں موجود ہے ، اگر ان کے پاس کوئی نص موجود ہوتی تو وہ یقینا اس کو ظاہر کرتے ۔
-
وعن جبير بن مطعم قال : أتت النبي صلى الله عليه و سلم امرأة فكلمته في شيء فأمرها أن ترجع إليه قال : يا رسول الله أرأيت إن جئت ولم أجدك ؟ كأنها تريد الموت . قال : " فإن لم تجديني فأتي أبا بكر " . متفق عليه-
اور حضرت جبیر ابن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ ( ایک دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور کسی معاملہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی (یعنی یا تو اس نے مسئلہ پوچھا یا کسی حاجت کی طلب گار ہوئی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ کسی اور وقت آپ کے پاس آئے (تاکہ اطمینان سے اس کی بات کا جواب دیں یا اس کی حاجت پوری کریں ) اس عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! (میرا مکان مدینہ سے دور ہے شاید دوبارہ آنے کا موقع نہ مل سکے اس لئے بعد میں ) اگر میں آئی اور آپ کو نہ پایا تو (پھر) کیسے بات بنے گی ۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کہنے سے اس عورت کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کی طرف اشارہ کرنا تھا (یعنی بظاہر یہ معلوم ہوتا کہ خدمت اقدس میں اس عورت کے آنے کا یہ واقعہ اس وقت کا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرض وفات میں مبتلا تھے اور اس کو خدشہ تھا کہ اگر میں کچھ دنوں بعد آئی تو شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں موجود نہیں ہوں گے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اگر تم مجھ کو نہ پاؤ تو ابوبکر صدق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلی جانا ۔" (بخاری ومسلم ) تشریح : یہ حدیث بلاشبہ اس امر کی طرف واضح اشارہ تھا کہ آپ کے بعد خلیفہ اول ابوبکر ہوں کے اگرچہ اس بارے میں اس حدیث کو نص قطعی کا درجہ نہیں دیا جاسکتا لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت ومنقبت کی بین دلیل ضرور ہے ، واضح رہے جمہور علماء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک نص قطعی کسی کی بھی خلافت کے میں خق میں وارد نہیں ہے اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کی حقانیت و صحت اس دلیل کے تحت ہے کہ ان کے خلافت پر صحابہ کا اجماع تھا ویسے علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ نے مشائرہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے حق میں نص کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے اس دعویٰ کو ثابت بھی کیا ہے ۔ اسمٰعیلی نے اپنی معجم میں حضرت سہل ابن ابی حثمہ کی روایت نقل کی ہے کہ ایک اعرابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ اونٹ اس وعدے پر بیچے کہ ان کی قیمت بعد میں لے لیگا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس اعرابی سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر پوچھو کہ اونٹوں کی قیمت لینے کے لئے اگر میں اس وقت آیا کہ آپ اس دنیا میں موجود نہ ہوں تو پھر قیمت کی ادئیگی کون کرے گا ؟ اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر تمہیں قیمت ادا کر دیں گے ۔ وہ اعرابی لوٹ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ان کو بتایا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس سے کہا کہ اب پھر جاؤ اور پوچھو کہ اگر میں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھی اس وقت آیا کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں تو پھر قیمت کی ادائیگی کون کرے گا ؟ اعرابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کریہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر تمہیں قیمت ادا کریں گے وہ اعرابی لوٹ کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب ان کو بتایا ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس سے کہا کہ اب پھر جاؤ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد کے بارے میں پوچھو چنانچہ اعرابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : عثمان تمہیں قیمت ادا کریں گے، اعرابی نے آکر یہ جواب بتایا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس سے کہا کہ اب جا کر یہ پوچھو کہ اگر میں عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ان کے انتقال کے بعد آیا تو پھر قیمت کی ادائیگی کون کرے گا ؟ اعرابی نے حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ابوبکر مرجائیں گے ، عمر بھی مرجائیں گے ، اور عثمان بھی مرجائیں گے تو پھر تم ہی زندہ رہ کر کیا کروگے ۔
-