TRUE HADITH
Home
About
Mission
Contact
مشکوۃ شریف
رونے اور ڈرنے کا بیان
حسن نیت کی اہمیت
وعن المهاجر بن حبيب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الله تعالى إني لست كل كلام الحكيم أتقبل ولكني أتقبل همه وهواه فإن كان همه وهواه في طاعتي جعلت صمته حمدا لي ووقارا وإن لم يتكلم رواه الدارمي .-
حضرت مہاجر بن حبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں عقلمند ودانشور کی ہر بات کو قبول نہیں کرتا (یعنی میرا دستور یہ نہیں ہے کہ عالم وفاضل اور علمند و دانا شخص جو بات بھی کہے اس کو قبول کر لوں) بلکہ میں اس کے قصد و ارادہ کو اور اس کی محبت ونیت کو قبول کرتا ہوں (یعنی یہ دیکھتا ہوں کہ اس نے جو بات کہی ہے وہ کس قصد وارادہ اور کس نیت کے ساتھ کہی ہے) پس اگر اس کی نیت ومحبت میری طاعت و فرمانبرداری کے تئیں ہوتی ہے تو میں اس کی خاموشی کو بھی اپنی حمد و ثنا اور اس کے حلم و وقار کے مرادف قرار دیتا ہوں اگرچہ وہ کوئی بات نہ کہے۔ (دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ خدا کے نزدیک محض گفتار کے غازی کی کوئی اہمیت نہیں ہے، وہاں تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ بات کہنے والا دانش وحکمت سے قطع نظر اپنی نیت میں کتنا مخلص ہے۔ اگر وہ خدا کی اطاعت و فرمانبرداری کی نیت اور اپنے دل میں خدا کے احکام کی محبت وعظمت رکھتا ہے تو اس کی خاموشی بھی علم و وقار کا مایہ افتخار اور خدا کے نزدیک مستحسن ومحمود قرار پاتی ہے کہ اگر وہ زبان سے کچھ نہ کہے تو بھی وہ ایسا ہی سمجھا جاتا ہے۔ جیسا کہ خدا کی حمد و ثنا میں رطب اللسان ہے۔ اور اگر اس کی نیت خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری کی نہ ہو، اور اس کے دل میں احکام خداوندی کی عظمت ومحبت کا فقدان ہو تو اس کی ہر بات لغو اور ناقابل اعتناء قرار پاتی ہے اگرچہ اس کے الفاظ ومعنی علم وحکمت سے کتنے ہی پر کیوں نہ ہوں کیونکہ اس صورت میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سمجھا جا سکتا کہ وہ ریا کاری میں مبتلا ہے اور جو بھی بات کہہ رہا ہے، اس کا مقصد لوگوں کو دکھانا سنانا، اور اس کے ذریعہ شہرت وناموری حاصل کرنا ہے۔
-