بارش کی دعا

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدہ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سْتَسْقٰی قَالَ اَللّٰھُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبِھَیْمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَاَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ۔ ( رواہ موطا امام مالک و ابوداؤد)-
" اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (یعنی حضرت عبداللہ صحابی سے) روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش مانگتے تو دعا پرھتے اَللّٰھُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَھِیْمَتَکَ وَانْشُرْرَحْمَتَکَ وَاَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ یعنی اے اللہ اپنے بندوں اور اپنے جانوروں کو پانی سے سیراب فرما دے اپنی رحمت پھیلا دے ، اور اپنی مردہ (یعنی خشک) زمینوں کو زندگی (یعنی شادابی و سبزی عطا فرما۔" (ابوداؤد)
-
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُوَا کِیءُ فَقَالَ اَللّٰھُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیْثًا مَرِیْئًا مُّرِیْعًانَّا فِعًا غَیْرَ ضَارٍّعَا جِلًا غَیْرَ اٰجِلٍ قَالَ فَاطْبَقَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَآئُ۔ (رواہ ابوداؤد)-
" اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم (استسقاء کے لیے ) ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور یہ دعا فرما رہے تھے اللھم اسقنا مغیثا مریا مریعا نا فعا غیر ضارعا جلا غیر اجل یعنی اے اللہ ؟ تو ہمیں بارش سے سیراب فرما جو فریاد رسی کرے اور جس کا انجام بہتر ہو اور جو ارزانی کرنے والی اور نفع پہنچانے والی ہو اور جلد آنے والی ہو دیر میں آنے والی نہ ہو۔" حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ( اس دعا کے بعد) آسمان ابر آلود ہو گیا۔" (ابوداؤد)
-
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ شَکَی النَّاسُ اِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قُحُوْطَ الْمَطَرِ فَاَمَرَ بِمِنْبَر فَوُضِعَ لَہ، فِی الْمُصَلَّی وَوَعَدَ النَّاسَ یَوْمًا یَخْرُجُوْنَ فِیْہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمحِیْنَ بَدَاَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَکَبَّرَ وَ حَمِدَ اﷲُ ثُمَّ قَالَ اِنَّکُمْ شَکَوْ تُمْ جَدْبَ دِیَارِ کُمْ وَاسْتِخَارَ الْمَطَرِ عَنْ اِبَّانَ زَمَانِہٖ عَنْکُمْ وَقَدْ اَمَرَ کُمُ اﷲُ اَنْ تَدْعُوْہُ وَوَعَدْکُمْ اَنْ یَّسْتَجِیْبَ لَکُمْ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ یَفْعَلُ مَا یُرِ یْدُ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ اﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْغَنِیُّ وَنْحُنُ فُقَرَاءُ اَنْزِلْ عَلَیْنَا الْغَیْثَ وَاجْعَلْ مَا اَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّۃً وَ َبلَاغًا اِلٰی حِیْنٍ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَلَمْ یَتْرُکِ الرَّفْعِ حَتّٰی بَدَاَ بَیَاضُ اِبِطَیْہِ ثُمَّ حَوَّلَ اِلَی النَّاسِ ظَھْرَہ، وَقَلَّبَ اَوْحَوَّلَ رِدَاءَ ہُ وَھُوَرَافِعٌ یَدَیْہِ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَاَنْشَاَ اﷲُ سَحَابَۃً فَرَ عَدَتْ وَبَرَ قَتْ ثُمَّ اَمْطَرَتْ بِاِذْنِ اﷲِ فَلَمْ یَاْتِ مَسْجِدَہ، حَتّٰی سَالَتِ السَّیُوْلُ فَلَمَّارَاٰی سُرْعَتَھُمْ اِلَی الْکِنَّ ضَحِکَ حَتّٰی بِدَتْ نَوَاَجِذُہ، فَقَالَ اَشْھَدُ اَنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْی ءٍ قَدِیْرٌ وَاِنِّیْ عَبْدُاﷲِ وَرَسُوْلَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)-
" حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ عید گاہ میں منبر رکھا جائے چنانچہ جب عید گاہ میں منبر رکھ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ایک دن کے بارہ میں طے کیا کہ اس دن سب لوگ عید گاہ چلیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ (متعین دن) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کا کنارہ ظاہر ہوتے ہی (عید گاہ) تشریف لے گئے ، اور منبر پر بیٹھ کر تکبیر کہی اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ " تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شہروں کی قحط سالی اور بارش کے اپنے وقت پر نہ برسنے کی شکایت تھی اب اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اس سے بارش کے لیے دعا مانگو اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے مہربان اور بخشش کرنے والا ہے یوم جزاء کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ ! تو معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی (بے پرواہ) ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں۔ ہم پر بارش برسا اور جو چیز کہ تو نازل کرے (یعنی بارش) اس کو ایک مدت دراز تک ہماری مدت اور (اس کے ذریعہ اپنے اپنے مقاصد و منافع تک) پہنچنے کا سبب بنا۔" اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اتنے بلند اٹھائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر اپنی پشت مبارک لوگوں کی طرف پھیر کر اپنی چادر الٹی یا یہ کہ پھیری اور اپنے ہاتھ یوں ہی اٹھائے رہے پھر لوگوں کی طرف منہ کرے (منبر سے ) نیچے تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی۔" جب ہی اللہ تعالیٰ نے بادل ظاہر فرمائے جو گرجنے لگے اور بجلی چمکنے لگی، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارش شروع ہوگئی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مسجد تک نہ آئے پائے تھے کہ نالے بہنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سایہ (یعنی بارش سے بچنے کے لیے محفوظ مقام ) ڈھونڈھنے میں جلدی کرتے دیکھا تو ہنس پڑھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچلیاں ظاہر ہوگئیں پھر فرمایا " میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول اللہ ہوں۔" (ابوداؤد) تشریح حضرت امام مالک حضرت امام شافعی اور ایک روایت کے مطابق حضرت امام احمد فرماتے ہیں کہ نماز استسقاء کے بعد دو خطبے پڑھنا سنت ہے اور خطبہ کی ابتداء استغفار کے ساتھ کرنی چاہیے جیسے کہ عیدین کے خطبہ کی ابتداء تکبیر کے ساتھ ہوتی ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ اور ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت امام احمد کے نزدیک خطبہ مشروع نہیں ہے صرف دعا و استغفار پر اکتفا کرنا چاہیے۔ حضرت ابن ہمام رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اصحاب سنن اربعہ نے حضرت اسحق ابن عبداللہ کنانہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (استسقاء کے لیے) عید گاہ جا کر تمہاری طرح خطبہ نہیں پڑھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر دعا کرتے گریہ وزاری کرتے اور اللہ کی عظمت و بڑائی بیان کرتے رہے نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی جیسا کہ عید میں پڑھتے تھے۔"
-