اللہ تعالیٰ کے دیدار کی کیفیت کا بیان

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَاسًا قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُونَهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّکُمْ تَرَوْنَهُ کَذَلِکَ يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ شَيْئًا فَلْيَتَّبِعْهُ فَيَتَّبِعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الشَّمْسَ الشَّمْسَ وَيَتَّبِعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الْقَمَرَ الْقَمَرَ وَيَتَّبِعُ مَنْ کَانَ يَعْبُدُ الطَّوَاغِيتَ الطَّوَاغِيتَ وَتَبْقَی هَذِهِ الْأُمَّةُ فِيهَا مُنَافِقُوهَا فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی فِي صُورَةٍ غَيْرِ صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ هَذَا مَکَانُنَا حَتَّی يَأْتِيَنَا رَبُّنَا فَإِذَا جَائَ رَبُّنَا عَرَفْنَاهُ فَيَأْتِيهِمْ اللَّهُ تَعَالَی فِي صُورَتِهِ الَّتِي يَعْرِفُونَ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا فَيَتَّبِعُونَهُ وَيُضْرَبُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ فَأَکُونُ أَنَا وَأُمَّتِي أَوَّلَ مَنْ يُجِيزُ وَلَا يَتَکَلَّمُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الرُّسُلُ وَدَعْوَی الرُّسُلِ يَوْمَئِذٍ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ وَفِي جَهَنَّمَ کَلَالِيبُ مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ هَلْ رَأَيْتُمْ السَّعْدَانَ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّهَا مِثْلُ شَوْکِ السَّعْدَانِ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ مَا قَدْرُ عِظَمِهَا إِلَّا اللَّهُ تَخْطَفُ النَّاسَ بِأَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ الْمُؤْمِنُ بَقِيَ بِعَمَلِهِ وَمِنْهُمْ الْمُجَازَی حَتَّی يُنَجَّی حَتَّی إِذَا فَرَغَ اللَّهُ مِنْ الْقَضَائِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَأَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ بِرَحْمَتِهِ مَنْ أَرَادَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَمَرَ الْمَلَائِکَةَ أَنْ يُخْرِجُوا مِنْ النَّارِ مَنْ کَانَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا مِمَّنْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَی أَنْ يَرْحَمَهُ مِمَّنْ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَعْرِفُونَهُمْ فِي النَّارِ يَعْرِفُونَهُمْ بِأَثَرِ السُّجُودِ تَأْکُلُ النَّارُ مِنْ ابْنِ آدَمَ إِلَّا أَثَرَ السُّجُودِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُودِ فَيُخْرَجُونَ مِنْ النَّارِ وَقَدْ امْتَحَشُوا فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَائُ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ مِنْهُ کَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ثُمَّ يَفْرُغُ اللَّهُ تَعَالَی مِنْ الْقَضَائِ بَيْنَ الْعِبَادِ وَيَبْقَی رَجُلٌ مُقْبِلٌ بِوَجْهِهِ عَلَی النَّارِ وَهُوَ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي عَنْ النَّارِ فَإِنَّهُ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَکَاؤُهَا فَيَدْعُو اللَّهَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَهُ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی هَلْ عَسَيْتَ إِنْ فَعَلْتُ ذَلِکَ بِکَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا أَسْأَلُکَ غَيْرَهُ وَيُعْطِي رَبَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ مَا شَائَ اللَّهُ فَيَصْرِفُ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ فَإِذَا أَقْبَلَ عَلَی الْجَنَّةِ وَرَآهَا سَکَتَ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَکَ وَمَوَاثِيقَکَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَ الَّذِي أَعْطَيْتُکَ وَيْلَکَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ وَيَدْعُو اللَّهَ حَتَّی يَقُولَ لَهُ فَهَلْ عَسَيْتَ إِنْ أَعْطَيْتُکَ ذَلِکَ أَنْ تَسْأَلَ غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِکَ فَيُعْطِي رَبَّهُ مَا شَائَ اللَّهُ مِنْ عُهُودٍ وَمَوَاثِيقَ فَيُقَدِّمُهُ إِلَی بَابِ الْجَنَّةِ فَإِذَا قَامَ عَلَی بَابِ الْجَنَّةِ انْفَهَقَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَرَأَی مَا فِيهَا مِنْ الْخَيْرِ وَالسُّرُورِ فَيَسْکُتُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَسْکُتَ ثُمَّ يَقُولُ أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَهُ أَلَيْسَ قَدْ أَعْطَيْتَ عُهُودَکَ وَمَوَاثِيقَکَ أَنْ لَا تَسْأَلَ غَيْرَ مَا أُعْطِيتَ وَيْلَکَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا أَغْدَرَکَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ لَا أَکُونُ أَشْقَی خَلْقِکَ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّی يَضْحَکَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی مِنْهُ فَإِذَا ضَحِکَ اللَّهُ مِنْهُ قَالَ ادْخُلْ الْجَنَّةَ فَإِذَا دَخَلَهَا قَالَ اللَّهُ لَهُ تَمَنَّهْ فَيَسْأَلُ رَبَّهُ وَيَتَمَنَّی حَتَّی إِنَّ اللَّهَ لَيُذَکِّرُهُ مِنْ کَذَا وَکَذَا حَتَّی إِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الْأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ تَعَالَی ذَلِکَ لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ لَا يَرُدُّ عَلَيْهِ مِنْ حَدِيثِهِ شَيْئًا حَتَّی إِذَا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ اللَّهَ قَالَ لِذَلِکَ الرَّجُلِ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا حَفِظْتُ إِلَّا قَوْلَهُ ذَلِکَ لَکَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَشْهَدُ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ ذَلِکَ لَکَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَذَلِکَ الرَّجُلُ آخِرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ-
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عطاء بن یزید، لیثی، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا جس وقت بادل نہ ہوں کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ انہوں نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم اسی طرح اپنے رب کا دیدار کرو گے اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کر کے فرمائیں گے جو جس کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے جو سورج کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے ساتھ ہو جائے اور جو بتوں اور شیطانوں کی عبادت کرتا تھا وہ انہی کے ساتھ ہو جائے اور اس میں اس امت کے منافق بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ ایسی صورتوں میں ان کے سامنے آئے گا کہ جن صورتوں میں وہ اسے نہیں پہچانتے ہوں گے، پھر وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں جب تک ہمارا رب نہ آئے ہم اس جگہ ٹھہرتے ہیں پھر جب ہمارا رب آئے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس ایسی صورت میں آئیں گے جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور کہیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں وہ جواب دیں گے بے شک تو ہمارا رب ہے پھر سب اس کے ساتھ ہو جائیں گے اور جہنم کی پشت پر پل صراط سے گزریں گے رسولوں کے علاوہ اس دن کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور رسولوں کی بات بھی اس دن اللہم سلم سلم (اے اللہ سلامتی رکھ) ہوگی اور جہنم میں سعدان خاردار جھاڑی کی طرح اس میں کانٹے ہوں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کانٹوں کو کوئی نہیں جانتا کہ کتنے بڑے ہوں گے لوگ اپنے اپنے اعمال میں جھکے ہوئے ہوں گے اور بعض مومن اپنے نیک اعمال کی وجہ سے بچ جائیں گے اور بعضوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا اور بعض پل صراط سے گزر کر نجات پا جائیں گے یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائیں گے اور اپنی رحمت سے دوزخ والوں میں سے جسے چاہیں گے فرشتوں کو حکم دیں گے کہ ان کو دوزخ سے نکال دیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا اور ان میں سے جس پر اللہ اپنا رحم فرمائیں اور جو لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہتا ہوگا فرشتے ایسے لوگوں کو پہچان لیں گے اور ایسوں کو بھی پہچان لیں گے کہ انکے چہروں پر سجدوں کے نشان ہوں گے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ پر حرام کر دیا ہے کہ وہ سجدہ کے نشان کو کھائے پھر ان لوگوں کو جلے ہوئے جسم کے ساتھ نکالا جائے گا پھر ان پر آب حیات بہایا جائے گا جس کی وجہ سے یہ لوگ اس طرح تر وتازہ ہو کر اٹھیں گے کہ جیسے کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ اگ پڑتا ہے پھر اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہوگا تو ایک شخص رہ جائے گا کہ جس کا چہرا دوزخ کی طرف ہوگا اور وہ جنت والوں میں سے آخری ہوگا جو جنت میں داخل ہوگا وہ اللہ سے عرض کرے گا اے میرے پروردگار میرا چہرہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے اس کی بدبو سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی تپش مجھے جلا رہی ہے پھر جب تک اللہ چاہیں گے وہ دعا کرتا رہے گا پھر اللہ اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمائیں گے کہ اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کردیا تو پھر تو اور کوئی سوال تو نہیں کرے گا وہ کہے گا کہ اس کے علاوہ کوئی سوال آپ سے نہیں کروں گا پھر پرو ردگار اس سے اس کے وعدہ کی پختگی پر اپنی منشا کے مطابق عہد و پیمان لیں گے پھر اللہ اس کے چہرے کو دوزخ سے پھیر دیں گے اور جنت کی طرف کر دیں گے اور جب وہ جنت کو اپنے سامنے دیکھے گا تو جب تک اللہ چاہیں گے وہ خاموش رہے گا پھر کہے گا اے میرے پروردگار! مجھے جنت کے دروازے تک پہنچا دے تو اللہ اس سے کہیں گے کہ کیا تو نے مجھے عہد و پیمان نہیں دیا تھا کہ میں اس کے علاوہ اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا افسوس ابن آدم تو بڑا وعدہ شکن ہے وہ پھر عرض کرے گا اے پروردگار……۔ وہ اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ پروردگار فرمائیں گے کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کردوں تو پھر اور تو کچھ نہیں مانگے گا وہ کہے گا نہیں تیری عزت کی قسم، اللہ تعالیٰ اس سے جو چاہیں گے نئے وعدہ کی پختگی کے مطابق عہد و پیمان لیں گے اور اس کو جنت کے دروازے پر کھڑا کردیں گے جب وہاں کھڑا ہوگا تو ساری جنت آگے نظر آئے گی جو بھی اس میں نفیس اور خوشیاں ہیں سب اسے نظر آئیں گی پھر جب تک اللہ چاہیں گے خاموش رہے گا پھر کہے گا اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کر دے تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ کیا تو نے مجھ سے یہ عہد وپیمان نہیں کیا تھا کہ اس کے بعد اور کسی چیز کا سوال نہیں کروں گا افسوس ابن آدم تو کتنا دھو کے باز ہے وہ کہے گا اے میرے پروردگار میں ہی تیری مخلوق میں سب سے زیادہ بد بخت، وہ اسی طرح اللہ سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہنس پڑیں گے جب اللہ تعالیٰ کو ہنسی آجائے گی تو فرمائیں گے جنت میں داخل ہو جا اور جب اللہ اسے جنت میں داخل فرما دیں گے تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ اپنی تمنائیں اور آرزوئیں ظاہر کر پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت کی نعمتوں کی طرف متوجہ فرمائیں گے اور یاد دلائیں گے فلاں چیز مانگ فلاں چیز مانگ جب اس کی ساری آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ اس سے فرمائیں گے کہ یہ نعمتیں بھی لے لو اور ان جیسی اور نعمتیں بھی لے لو۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس حدیث کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کے مطابق بیان کیا صرف اس بات میں اختلاف ہوا کہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بیان کیا کہ ہم نے یہ چیزیں دیں اور اس جیسی اور بھی دیں تو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دس گنا زائد دیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے تو یہی یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے کہ ہم نے یہ سب چیزیں دیں اور اس جیسی اور دیں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہم نے یہ سب دیں اور اس سے دس گنا اور زیادہ دیں حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ وہ آدمی ہے جو سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا۔
Abu Haraira reported: The people said to the Messenger of Allah (may peace be upon him): Messenger of Allah, shall we see our Lord on the Day of Resurrection? The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full? They said: Messenger of Allah, no. He (the Messenger) further said: Do you feel any trouble in seeing the sun, when there is no cloud over it? They said: Messenger of Allah. no. He (the Holy Prophet) said: Verily you would see Him like this (as you see the sun and the moon). God will gather people on the Day of Resurrection and say: Let every people follow what they worshipped. Those who worshipped the sun would follow the sun, and those who worshipped the moon would follow the moon, and those who worshipped the devils would follow the devils. This Ummah (of Islam) alone would be left behind and there would be hypocrites too amongst it. Allah would then come to them in a form other than His own Form, recognisable to them, and would say: I am your Lord. They would say: We take refuge with Allah from thee. We will stay here till our Lord comes to us. and when our Lord would come we would recognise Him. Subsequently Allah would come to them in His own Form, recognisable to them, and say: I am your Lord. They would say: Thou art our Lord. And they would follow Him, and a bridge would be set over the Hell; and I (the Holy Prophet) and my Ummah would be the first to pass over it; and none but the messengers would speak on that day, and the prayer of the messengers on that day would be: O Allah! grant safety, grant safety. In Hell, there would be long spits like the thorns of Sa'dan He (the Holy Prophet) said: Have you seen Sa'dan? They replied: Yes, Messenger of Allah. He said: Verily those (hooks) would be like the thorns of Sa'dan, but no one knows their size except Allah. These would seize people for their misdeeds. Some of them would escape for their (good) deeds, and some would be rewarded for their deeds till they get salvation. When Allah would finish judging His bondsmen and because of His mercy decide to take out of Hell such people as He pleases. He would command the angels to bring out those who had not associated anything with Allah; to whom Allah decided to show mercy. those who would say: There is no god but Allah. They (the angels) would recognise them in the Fire by the marks of prostration, for Hell-fire will devour everything (limb) of the sons of Adam except the marks of prostration. Allah has forbidden the fire to consume the marks of prostration. They will be taken out of the Fire having been burnt, and the water of life would be poured over them, and they will sprout as seed does In the silt carried by flood. Then Allah would finish judging amongst His bondsmen; but a man who will be the last to enter Paradise will remain facing Hell and will say: O my Lord I turn my face away from Hell, for its air has poisoned me ard its blaze has burnt me. He will then call to Allah as long as Allah would wish that he should call to Him. Then Allah, Blessed and Exalted, would say: If I did that, perhaps you would ask for more than that. He would say: I would not ask You more than this, and he would give his Lord covenants and agreements as Allah wished, and so He would turn his face away from the Fire When he turns towards the Paradise and sees it, he will remain silent as long as Allah wishes him to remain so. He will then say: O my Lord I bring me forward to the gate of the Paradise. Allah would say to him: Did you not give covenants and agreements that you would not ask for anything besides what I had given you. Woe to thee! O son of Adam, how treacherous you are! He would say: O my Lord! and would continue calling to Allah till He would say to him: If I grant you that, perhaps you will ask for more. He will reply: No, by Thy greatness, and he will give His Lord promises and covenants as Allah had wished. He would then bring him to the gate of the Paradise, and when he would stand at the gate of the Paradise, it would lay open before him. and he would see the bounty and the joy that there is in it. He would remain quiet as long as Allah would desire him to remain silent. He would then say: O my Lord, admit me to Paradise. Allah. Blessed and Exalted, would say: Did you not give covenants and agreements that you would not ask for anything more than what I had granted you? Woe to you! son of Adam, how treacherous you are! And he would say: O my Lord, I do not wish to be the most miserable of Thy creatures. He would continue calling upon Allah till Allah, Blessed and Exalted, would laugh. When Allah would laugh at him, He would say: Enter the Paradise. When he would enter, Allah would say: State your wish. He would express his wishes till Allah would remind him (the desire of) such and such (things). When his desires would be exhausted Allah would say: That is for thee and, besides it, the like of it also. 'Ata' b. Yazid said: Abu Sa'id al-Khudri was with Abu Huraira and be did not reject anything from the hadith narrated by him, but when Abu Huraira narrated:" Allah said to that man; ind its like along with it," Abu Sa'id said:" Ten like it along with it," O Abu Huraira. Abu Huraira said: I do not remember except the words:" That is for you and a similar one along with it." Abu Sa'id said: I bear witness to the fact that I remembered from the Messenger of Allah (may peace be upon him) his words:" That is for thee and ten like it." Abu Huraira said: That man was the last of those deserving of Paradise to enter Paradise.
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَعَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ النَّاسَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ-
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان، شعیب، زہری، سعید بن مسیب، عطاء بن یزید، لیثی، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے پھر اس کے بعد وہی حدیث ہے جو گزر چکی ہے۔
Abu Huraira reported: The people said to the Apostle of Allah (may peace be upon him): Messenger of Allah I shall we see our Lord on the Day of Resurrection? The rest of the hadith was narrated according to the narration of Ibrahim b. Sa'd.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَدْنَی مَقْعَدِ أَحَدِکُمْ مِنْ الْجَنَّةِ أَنْ يَقُولَ لَهُ تَمَنَّ فَيَتَمَنَّی وَيَتَمَنَّی فَيَقُولُ لَهُ هَلْ تَمَنَّيْتَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ لَهُ فَإِنَّ لَکَ مَا تَمَنَّيْتَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ-
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام، ابن منبہ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سب سے کم درجہ کا وہ جنتی ہوگا جس سے اللہ فرمائے گا کہ تم تمنا کرو وہ تمنا کرے گا پھر اللہ اس سے فرمائیں گے کیا تو نے تمنا کرلی ہے وہ کہے گا ہاں پھر اللہ اس سے فرمائیں گے کہ تیرے لئے ہے وہ جو تو نے تمنا کی اور اس جتنا اور بھی لے لو۔
Hammam b. Munabbih said: This is what Abu Huraira transmitted to us from the Messenger of Allah (may peace be upon him), and he narrated many of them;- one of them was: The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: The lowest in rank among you in Paradise would be asked: Desire (whatever you like). And he would express his desire and again and again express a desire. tHe would be asked: Have you expressed your desire? He would say: Yes. Then He (Allah) would say: For thee is (granted) what thou desirest, and the like of it along with it.
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ بِالظَّهِيرَةِ صَحْوًا لَيْسَ مَعَهَا سَحَابٌ وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ صَحْوًا لَيْسَ فِيهَا سَحَابٌ قَالُوا لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا کَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا إِذَا کَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ لِيَتَّبِعْ کُلُّ أُمَّةٍ مَا کَانَتْ تَعْبُدُ فَلَا يَبْقَی أَحَدٌ کَانَ يَعْبُدُ غَيْرَ اللَّهِ سُبْحَانَهُ مِنْ الْأَصْنَامِ وَالْأَنْصَابِ إِلَّا يَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّی إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ وَغُبَّرِ أَهْلِ الْکِتَابِ فَيُدْعَی الْيَهُودُ فَيُقَالُ لَهُمْ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا کُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرَ ابْنَ اللَّهِ فَيُقَالُ کَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ فَمَاذَا تَبْغُونَ قَالُوا عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ فَيُحْشَرُونَ إِلَی النَّارِ کَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ ثُمَّ يُدْعَی النَّصَارَی فَيُقَالُ لَهُمْ مَا کُنْتُمْ تَعْبُدُونَ قَالُوا کُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ فَيُقَالُ لَهُمْ کَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ صَاحِبَةٍ وَلَا وَلَدٍ فَيُقَالُ لَهُمْ مَاذَا تَبْغُونَ فَيَقُولُونَ عَطِشْنَا يَا رَبَّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُشَارُ إِلَيْهِمْ أَلَا تَرِدُونَ فَيُحْشَرُونَ إِلَی جَهَنَّمَ کَأَنَّهَا سَرَابٌ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي النَّارِ حَتَّی إِذَا لَمْ يَبْقَ إِلَّا مَنْ کَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ تَعَالَی مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ أَتَاهُمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَی فِي أَدْنَی صُورَةٍ مِنْ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا قَالَ فَمَا تَنْتَظِرُونَ تَتْبَعُ کُلُّ أُمَّةٍ مَا کَانَتْ تَعْبُدُ قَالُوا يَا رَبَّنَا فَارَقْنَا النَّاسَ فِي الدُّنْيَا أَفْقَرَ مَا کُنَّا إِلَيْهِمْ وَلَمْ نُصَاحِبْهُمْ فَيَقُولُ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ لَا نُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّی إِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَکَادُ أَنْ يَنْقَلِبَ فَيَقُولُ هَلْ بَيْنَکُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ فَتَعْرِفُونَهُ بِهَا فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ فَلَا يَبْقَی مَنْ کَانَ يَسْجُدُ لِلَّهِ مِنْ تِلْقَائِ نَفْسِهِ إِلَّا أَذِنَ اللَّهُ لَهُ بِالسُّجُودِ وَلَا يَبْقَی مَنْ کَانَ يَسْجُدُ اتِّقَائً وَرِيَائً إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ظَهْرَهُ طَبَقَةً وَاحِدَةً کُلَّمَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ خَرَّ عَلَی قَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُونَ رُئُوسَهُمْ وَقَدْ تَحَوَّلَ فِي صُورَتِهِ الَّتِي رَأَوْهُ فِيهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ فَقَالَ أَنَا رَبُّکُمْ فَيَقُولُونَ أَنْتَ رَبُّنَا ثُمَّ يُضْرَبُ الْجِسْرُ عَلَی جَهَنَّمَ وَتَحِلُّ الشَّفَاعَةُ وَيَقُولُونَ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْجِسْرُ قَالَ دَحْضٌ مَزِلَّةٌ فِيهِ خَطَاطِيفُ وَکَلَالِيبُ وَحَسَکٌ تَکُونُ بِنَجْدٍ فِيهَا شُوَيْکَةٌ يُقَالُ لَهَا السَّعْدَانُ فَيَمُرُّ الْمُؤْمِنُونَ کَطَرْفِ الْعَيْنِ وَکَالْبَرْقِ وَکَالرِّيحِ وَکَالطَّيْرِ وَکَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّکَابِ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُرْسَلٌ وَمَکْدُوسٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ حَتَّی إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ بِأَشَدَّ مُنَاشَدَةً لِلَّهِ فِي اسْتِقْصَائِ الْحَقِّ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ لِلَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِإِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ فِي النَّارِ يَقُولُونَ رَبَّنَا کَانُوا يَصُومُونَ مَعَنَا وَيُصَلُّونَ وَيَحُجُّونَ فَيُقَالُ لَهُمْ أَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَتُحَرَّمُ صُوَرُهُمْ عَلَی النَّارِ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا کَثِيرًا قَدْ أَخَذَتْ النَّارُ إِلَی نِصْفِ سَاقَيْهِ وَإِلَی رُکْبَتَيْهِ ثُمَّ يَقُولُونَ رَبَّنَا مَا بَقِيَ فِيهَا أَحَدٌ مِمَّنْ أَمَرْتَنَا بِهِ فَيَقُولُ ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا کَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا أَحَدًا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا کَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا مِمَّنْ أَمَرْتَنَا أَحَدًا ثُمَّ يَقُولُ ارْجِعُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ خَلْقًا کَثِيرًا ثُمَّ يَقُولُونَ رَبَّنَا لَمْ نَذَرْ فِيهَا خَيْرًا وَکَانَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَقُولُ إِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي بِهَذَا الْحَدِيثِ فَاقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَکُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَفَعَتْ الْمَلَائِکَةُ وَشَفَعَ النَّبِيُّونَ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنْ النَّارِ فَيُخْرِجُ مِنْهَا قَوْمًا لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ قَدْ عَادُوا حُمَمًا فَيُلْقِيهِمْ فِي نَهَرٍ فِي أَفْوَاهِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ نَهَرُ الْحَيَاةِ فَيَخْرُجُونَ کَمَا تَخْرُجُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ أَلَا تَرَوْنَهَا تَکُونُ إِلَی الْحَجَرِ أَوْ إِلَی الشَّجَرِ مَا يَکُونُ إِلَی الشَّمْسِ أُصَيْفِرُ وَأُخَيْضِرُ وَمَا يَکُونُ مِنْهَا إِلَی الظِّلِّ يَکُونُ أَبْيَضَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَأَنَّکَ کُنْتَ تَرْعَی بِالْبَادِيَةِ قَالَ فَيَخْرُجُونَ کَاللُّؤْلُؤِ فِي رِقَابِهِمْ الْخَوَاتِمُ يَعْرِفُهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ هَؤُلَائِ عُتَقَائُ اللَّهِ الَّذِينَ أَدْخَلَهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا خَيْرٍ قَدَّمُوهُ ثُمَّ يَقُولُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا رَأَيْتُمُوهُ فَهُوَ لَکُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ لَکُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا فَيَقُولُونَ يَا رَبَّنَا أَيُّ شَيْئٍ أَفْضَلُ مِنْ هَذَا فَيَقُولُ رِضَايَ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْکُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا-
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے (صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں جب سورج نصف النہار پر ہو اس کے ساتھ بادل بھی نہ ہوں اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ اور جب چودہویں کے چاند کی رات آسمان پر چاند جلوہ آرا ہو اور بادل بھی نہ ہوں تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ تو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پس جس کیفیت کے ساتھ تم دنیا میں سورج یا چاند کو دیکھتے ہو اسی کیفیت کے ساتھ تم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے قیامت کے دن ایک پکارنے والا پکارے گا کہ وہ گروہ اس کی پیروی کرے جس کی پیروی وہ دنیا میں کرتا تھا اس اعلان کے بعد جتنے لوگ بھی اللہ سبحانہ وتعالی کے سوا بتوں وغیرہ کو پوجتے تھے سب جہنم میں جاگریں گے اور صرف وہ لوگ بچ جائیں گے جو لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کرتے تھے چاہے وہ نیک ہوں یا برے اور کچھ لوگ اہل کتاب میں سے بھی باقی بچ جائیں گے جو اللہ کی عبادت کرتے تھے چاہے وہ نیک ہوں یا برے پھر یہودیوں کو بلا کر ان سے پو جھا جائے گا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے کہ ہم دنیا میں اللہ کے بیٹے حضرت عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹ کہتے ہو اللہ کی نہ تو کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی بیٹا، اب تم کیا چاہتے ہو! وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی پلا دیں پھر انہیں اشارے سے کہا جائے گا کہ تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے پھر انہیں دوزخ کی طرف دھکیلا جائے گا وہ جہنم سراب پانی کی جگہ کی طرح دکھائی دے گی پھر وہ جہنم میں جا پڑیں گے پھر نصاری کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ تم دنیا میں کس کی عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے کہ ہم اللہ کے بیٹے حضرت مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے پھر ان سے کہا جائے گھا کہ تم جھوٹ کہتے ہو اللہ تعالیٰ کی نہ تو کوئی بیوی ہے اور نہ اس کا کوئی بیٹا ہے پھر ان سے کہا جائے گا اب تم کیا چاہتے ہو! وہ کہیں گے کہ ہم بہت پیاسے ہیں ہمیں پانی پلا دیان سے اشارے سے کہا جائے گا تم پانی کی طرف کیوں نہیں جاتے پھر انہیں دوزخ کی طرف دھکیلا جائے گا وہ دوزخ نہیں سراب کی طرح دکھائی دے گا پھر وہ دوزخ میں جا گریں گے یہاں تک کہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو دنیا میں صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے چاہے وہ نیک ہوں یا برے پھر ان کے پاس اللہ تعالیٰ ایک ایسی عورت بھیجیں گے جس عورت کو وہ دنیا میں کسی نہ کسی وجہ سے پہچانتے ہوں گے دنیا میں ان کو دیکھا ہوگا بحیثیت مخلوق کے نہ کہ معبود کے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اب تم کس چیز کا انتظار کرتے ہو ہر گروہ اپنے معبود (دنیا میں جس جس کی عبادت یا جس جس کی پیروی کرتے تھے) کے ساتھ چلا گیا ہے وہ عرض کریں گے اے ہمارے پروردگار ہم دنیا میں ان لوگوں سے علیحدہ رہے حالانکہ ہم ان کے سب سے زیادہ محتاج تھے اور ہم ان لوگوں کے ساتھ بھی نہیں رہے اس عورت سے آواز آئے گی کہ میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے کہ ہم تم سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے وہ دو یا تین مرتبہ کہیں گے یہاں تک کہ ان کے دل ڈگمگانے لگیں گے پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ایسی نشانی ہے جس سے اپنے اللہ کو پہچان لو وہ کہیں گے ہاں پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی منکشف فرمائیں گے اس منظر کو دیکھ کر جو آدمی بھی دنیا میں صرف اللہ کے خوف اور اس کی رضا کے لئے سجدہ کرتا تھا اسے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور جو آدمی کسی دنیوی خوف یا دکھلاوے کے لئے دنیا میں سجدہ کرتا تھا اسے سجدہ کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کی پشت ایک تختہ کی طرح ہو جائے گی اور جب بھی سجدہ کرنا چاہے گا اپنی پشت کے بل گر جائے گا پھر مسلمان اپنا سر سجدہ سے اٹھائیں گے اور اللہ اس صورت میں ہوں گے جس صورت میں انہوں نے پہلی مرتبہ اسے دیکھا ہوگا اللہ فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں مسلمان کہیں گے کہ تو ہمارا رب ہے پھر جہنم پر پل صراط بچھایا جائے گا اور شفاعت کی اجازت دی جائے گی اس وقت سب کہیں گے اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ اللَّهُمَّ سَلِّمْ سَلِّمْ (اے اللہ سلامتی فرما اے اللہ سلامتی فرما) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ پل کیسا ہوگا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک ایسی چیز جس میں پھسلن ہوگی اور اس میں دانے دار کانٹے ہوں گے وہ لوہے کے کانٹے ہوں گے وہ لوہے کے کانٹے سعد ان جھاڑی کے کانٹوں کی طرح ہوں گے بعض مسلمان اس پل سے پلک جھپکتے میں گزر جائیں گے بعض بجلی کی طرح بعض آندھی کی طرح بعض پرندوں کیطرح بعض تیز رفتار اعلی نسل کے گھوڑوں کی طرح اور بعض اونٹوں کی طرح یہ سب صحیح سلامت پل صراط سے گزر جائیں گے اور بعض مسلمان کانٹوں سے الجھتے ہوئے وہاں سے گزریں گے اور بعض کانٹوں سے زخمی ہو کر دوزخ میں گر پڑیں گے اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو مومن نجات پا کر جنت میں چلے جائیں گے وہ اپنے مسلمان بھائیوں کو جو دوزخ میں گرے پڑے ہوں گے ان کو چھڑانے کے لئے اللہ تعالیٰ سے اس طرح جھگڑیں جس طرح کہ کوئی اپنا حق مانگنے کے لئے بھی نہیں جھگڑتا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کریں گے اے ہمارے رب یہ لوگ ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے ہمارے ساتھ حج کرتے تھے ان سے کہا جائے گا جن کو تم پہچانتے ہو ان کو دوزخ سے نکال لو ان لوگوں پر دوزخ حرام کر دی جائے گی پھر جنتی مسلمان بہت سی تعداد میں ان لوگوں کو دوزخ سے نکلوا لائیں گے جن میں سے بعض کی آدھی پنڈلیوں کو اور بعض کو گھٹنوں تک دوزخ کی آگ نے جلا ڈالا ہوگا پھر جنتی لوگ کہیں گے اے اللہ اب ان لوگوں میں سے کوئی باقی نہیں بچا جن کو دوزخ سے نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جاؤ اور جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی کوئی بھلائی ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ پھر جنتی لوگ بہت سی تعداد میں لوگوں کو دوزخ سے نکال لائیں گے پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے اے اللہ جن لوگوں کو تو نے ہمیں دوزخ سے نکالنے کو حکم دیا تھا ہم نے ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑا پھر اللہ فرمائیں گے جاؤ جس کے دل میں آدھے دینار کے برابر بھی اگر کوئی بھلائی ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ جنتی لوگ پھر جائیں گے اور پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے اے اللہ جن لوگوں کو تو نے ہمیں دوزخ سے نکالنے کو حکم دیا تھا ہم نے ان میں کسی کو نہیں چھوڑا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جس کے دل میں تم ایک ذرہ کے برابر بھی کوئی بھلائی پاؤ اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ جنتی لوگ پھر جائیں گے اور دوزخ سے بہت بڑی تعداد میں اللہ کی مخلوق کو نکال لائیں گے پھر اللہ کی بارگاہ میں عرض کریں گے اے اللہ اب دوزخ میں بھلائی کا ایک ذرہ بھی نہیں ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر تم مجھے اس حدیث میں سچا نہ سمجھو تو یہ آیت پڑھ لو (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا وَيُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِيْمًا) 4۔ النساء : 40) اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں فرمائیں گے اور جو نیکی ہوگی اسے دوگ نافرمائیں گے اور اپنے پاس سے بہت سا ثواب عطا فرمائیں گے اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے فرشتوں نے شفاعت کر دی انبیاء علیہ السلام نے شفاعت فرما دی مومنوں نے شفاعت کر دی اور أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ کے علاوہ کوئی ذات بھی باقی نہ رہی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ایک مٹھی بھر آدمیوں کو جہنم سے نکالیں گے یہ وہ آدمی ہوں گے جنہوں نے کوئی بھلائی نہیں کی ہوگی اور یہ لوگ جل کر کوئلہ ہو گئے ہوں گے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ایک نہر میں ڈالیں گے جو جنت کے دروازوں پر ہوگی جس کا نام نہر الحیاة ہے اس میں اتنی جلدی تر وتازہ ہوں گے جس طرح کہ دانہ پانی کے بہاؤ میں کوڑے کچرے کی جگہ اگ آتا ہے تم دیکھتے ہو کبھی وہ دانہ پتھر کے پاس ہوتا ہے اور کبھی درخت کے پاس اور جو سورج کے رخ پر ہوتا ہے وہ زرد یا سبز اگتا ہے اور جو سائے میں ہوتا ہے وہ سفید رہتا ہے صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایسے بیان فرما رہے ہیں گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگل میں جانوروں کو چراتے رہے ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ لوگ اس نہر سے موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلتے ہوں گے اور ان کی گردنوں میں سونے کے پٹے پڑے ہوئے ہوں گے جن کی وجہ سے جنت والے ان کو پہچان لیں گے اور ان کے بارے میں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عمل کے دوزخ سے آزاد فرمایا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ان سے فرمائیں گے جنت میں داخل ہو جاؤ اور تم جس چیز کو بھی دیکھو گے وہ چیز تمہاری ہو جائے گی وہ لوگ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو جہاں والوں میں سے کسی کو بھی عطا نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تمہارے لئے میرے پاس اس سے افضل چیز ہے جو اس سے بھی افضل ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وہ افضل چیز ہے میری رضا اب آج کے بعد میں تم پر کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔
Abu Sa'id al-Khudri reported: Some people during the lifetime of the Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Messenger of Allah! shall we see our Lord on the Day of Resurrection? The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Yes, and added: Do you feel any trouble in seeing the sun at noon with no cloud over it, and do you feel trouble in seeing the moon (open) in the full moonlit night with no cloud over it? They said: No, Messenger of Allah! He (the Holy Prophet) said: You will not feel any trouble in seeing Allah on the Day of Resurrection any more than you do in seeing any one of them. When the Day of Resurrection comes a Mu'adhdhin (a proclaimer) would proclaim: Let every people follow what they used to worship. Then all who worshipped idols and stones besides Allah would fall into the Fire, till only the righteous and the vicious and some of the people of the Book who worshipped Allah are left. Then the Jews would be summoned, and it would be said to them: What did you worship? They will say: We worshipped 'Uzair, son of Allah. It would be said to them: You tell a lie; Allah had never had a spouse or a son. What do you want now? They would say: We feel thirsty, O our Lord! Quench our thirst. They would be directed (to a certain direction) and asked: Why don't you go there to drink water? Then they would be pushed towards the Fire (and they would find to their great dismay that) it was but a mirage (and the raging flames of fire) would be consuming one another, and they would fall into the Fire. Then the Christians would be summoned and it would be said to them: What did you worship? They would say: We worshipped Jesus, son of Allah. It would be said to them: You tell a lie; Allah did not take for Himself either a spouse or a son. Then it would be said to them: What do you want? They would say: Thirsty we are, O our Lord! Quench our thirst. They would be directed (to a certain direction) and asked: Why don't you go there to get water? But they would be pushed and gathered together towards the Hell, which was like a mirage to them, and the flames would consume one another. They would fall Into the Fire, till no one is left except he who worshipped Allah, be he pious or sinful. The Lord of the Universe, Glorified and Exalted, would come to them in a form recognisable to them and say; What are you looking for? Every people follow that which they worshipped. They would say: Our Lord, we kept ourselves separate from the people in the world, though we felt great need of them; we, however, did not associate ourselves with them. He would say: I am your Lord. They would say: We take refuge with Allah from thee and do not associate anything with Allah. They would repeat it twice or thrice, till some of them would be about to return. It would be said: Is there any sign between you and Him by which you will recognise Him? They would say: Yes. and the things would be laid bare. Those who used to prostrate themselves before God of their own accord would be permitted by God to prostrate themselves. But there would remain none who used to prostrate out of fear (of people) and ostentation but Allah would make his back as one piece, and whenever he would attempt to prostrate he would fall on his back. Then they would raise their heads and He would assume the Form in which they had seen Him the first time and would say: I am your Lord. They would say: Thou art our Lord. Then the bridge would be set up over the Hell and intercession would be allowed and they will say: O God, keep safe, keep safe. It was asked: Messenger of Allah, what is this bridge? He said: The void in which one Is likely to slip. There would be hooks, tongs, spits like the thorn that is found in Najd and is known as Sa'dan. The believers would then pass over within the twinkling of an eye, like lightning, like wind, like a bird, like the finest horses and camels. Some will escape and be safe, some will be lacerated and let go, and some will be pushed into the fire of Hell till the believers will find rescue from the Fire. By One in Whose hand is my life, there will be none among you more eager to claim a right than the believers on the Day of Resurrection for (saying their) brethren in the Fire who would say: O our Lord, they were fasting along with us, and praying and performing pilgrimage. It will be said to them: Take out those whom you recognise. Then their persons would be forbidden to the Fire; and they would take out a large number of people who had been overtaken by Fire up to the middle of the shank or up to the knees. They would then say: O our Lord I not one of those about whom Thou didst give us command remains in it. He will then say: Go back and bring out those in whose hearts you find good of the weight of a dinar Then they will take out a large number of people. Then they would say: O our Lord! we have not left anyone about whom You commanded us. He will then say: Go back and bring out those in whose hearts you find as much as half a dinar of good. Then they will take out a large number of people, and would say: O our Lord! not one of those about whom Thou commanded us we have left in it. Then He would say: Go back and in whose heart you find good to the weight of a particle bring him out. They would bring out a large number of people, and would then say: O our Lord, now we have not left anyone in it (Hell) having any good in him. Abu Sa'id Khudri said: If you don't testify me in this hadith, then recite if you like:" Surely Allah wrongs not the weight of an atom; and if it is a good deed. He multiplies it and gives from Himself a great reward" (al-Qur'an, iv. 40). Then Allah, Exalted and Great, would say: The angels have interceded, the apostles have interceded and the believers have interceded, and no one remains (to grant pardon) but the Most Merciful of the mercifuls. He will then take a handful from Fire and bring out from it people who never did any good and who had been turned into charcoal, and will cast them into a river called the river of life, on the outskirts of Paradise. They will come out as a seed comes cut from the silt carried by flood. You see it near the stone or near the tree. That which is exposed to the sun is yellowish or greenish and which is under the shade is white. They said: Messenger of Allah! it seems as if you had been tending a flock in the jungle. He (the Holy Prophet) said: They will come forth like pearls with seals on their necks. The inhabitants of Paradise would recognise them (and say): Those are who have been set free by the Compassionate One. Who has admitted them into Paradise without any (good) deed that they did or any good that they sent in advance Then He would say: Enter the Paradise; whatever you see in it is yours. They would say: O Lord, Thou hast bestowed upon us (favours) which Thou didst not bestow upon anyone else in the world. He would say: There is with Me (a favour) for you better than this. They would say: O our Lord! which thing is better than this? He would say: It is My pleasure. I will never be angry with you after this
قَالَ مُسْلِم قَرَأْتُ عَلَی عِيسَی بْنِ حَمَّادٍ زُغْبَةَ الْمِصْرِيِّ هَذَا الْحَدِيثَ فِي الشَّفَاعَةِ وَقُلْتُ لَهُ أُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْکَ أَنَّکَ سَمِعْتَ مِنَ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ فَقَالَ نَعَمْ قُلْتُ لِعِيسَی بْنِ حَمَّادٍ أَخْبَرَکُمُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَرَی رَبَّنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا کَانَ يَوْمٌ صَحْوٌ قُلْنَا لَا وَسُقْتُ الْحَدِيثَ حَتَّی انْقَضَی آخِرُهُ وَهُوَ نَحْوُ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ وَلَا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ فَيُقَالُ لَهُمْ لَکُمْ مَا رَأَيْتُمْ وَمِثْلُهُ مَعَهُ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنْ الشَّعْرَةِ وَأَحَدُّ مِنْ السَّيْفِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ الْعَالَمِينَ وَمَا بَعْدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ-
مسلم، عیسیٰ بن حماد، لیث بن سعد، عیسیٰ بن حماد، خالد بن یزید، سعید بن ابوہلال، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب دن صاف ہو تو کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں کوئی دشورای آتی ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں اور باقی حدیث اسی طرح ہے لیکن اس حدیث میں یہ زائد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا جنہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ہوگا تو ان سے اللہ فرمائے گا کہ جنت میں جو کچھ تم نے دیکھا وہ بھی لے لو اور اس جیسا اتنا اور بھی لے لو حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ تک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ پل صراط بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہوگا اور لیث کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار تو نے ہمیں وہ کچھ دیا جو تمام جہاں والوں کو نہیں دیا۔
It is narrated on the authority of Abu Sa'id al-Khudri: We said: Messenger of Allah, shall we see our Lord? The Messenger of Allah (may peace be upon him) said: Do you feel any trouble in seeing the sun on a cloudless day? We said: No. And the remaining part of the hadith has been narrated to the end like the hadith transmitted by Hafs b. Maisara with the addition of these words: Without the deed that they did or any good that they had sent before. It would be said to them: For you is whatever you see (in it) and with it the like of it. Abu Sa'id said: I have come to know that the bridge would be thinner even than the hair and sharper than the sword; and in the hadith narrated by Laith these words are not found: They would say, O our Lord! Thou hast bestowed upon us (favours) which thou didst not bestow on anyone else in the world.
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِإِسْنَادِهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ إِلَی آخِرِهِ وَقَدْ زَادَ وَنَقَصَ شَيْئًا-
ابوبکر بن ابی شیبہ، جعفر بن عون، ہشام بن سعد، زید بن اسلم سے ایک دوسری سند کے ساتھ کچھ کمی بیشی کے ساتھ اسی طرح کی ایک روایت نقل کی گئی ہے ۔
Abu Bakr b. Abi Shaiba, Ja'far b. 'Aun, Hisham b. Sa'd, Zaid b. Aslam narrated the hadith as transmitted by Hafs b. Maisara, with certain additions and omissions.