مار پیٹ کے قصاص اور حاکم کی ذات سے قصاص لینے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَکَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ کَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ-
احمد بن صالح، ابن وہب، عمرو ابن فارس، بکیر، عبادہ بن مسافح، حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی اثناء میں سامنے سے ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر اوندھا گرنے لگا۔ (مال لینے کی فکر میں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لکڑی سے جو آپ کے دست مبارک میں تھی اسے ٹھوکا دیا تو اس کے چہرے پر زخم آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ یہاں آ اور قصاص لے لے اس نے کہا کہ بلکہ میں نے معاف کردیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
Narrated AbuSa'id al-Khudri: When the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) was distributing something, a man came towards him and bent down on him. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) struck him with a bough and his face was wounded. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said to him: Come and take retaliation. He said: no, I have forgiven, Apostle of Allah!.
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي فِرَاسٍ قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَکُمْ وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَکُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ ذَلِکَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَيَّ أُقِصُّهُ مِنْهُ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَتُقِصُّهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أُقِصُّهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ-
ابوصالح، ابواسحاق فزاری، جریری، ابونضرہ، ابوفراس کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ میں اپنے گورنروں کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے جسموں کو ماریں اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے اموال لے لیں۔ پس جس کے ساتھ ایسا کیا جائے تو وہ میرے پاس مقدمہ لے کر آئے میں اسے قصاص دلواؤں گا حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا کہ کیا اگر کوئی حاکم اپنی رعایا کو تادیبا مارے تو اس سے بھی قصاص لیں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہاں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں اس سے قصاص لوں گا اور بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے وہ اپنی ذات سے بھی قصاص دیتے تھے۔
Narrated Umar ibn al-Khattab: I did not send my collectors (of zakat) so that they strike your bodies and that they take your property. If that is done with someone and he appeals to me, I shall take retaliation on him. Amr ibn al-'As said: If any man (i.e. governor) inflicts disciplinary punishment on his subjects, would you take retaliation on him too? He said: Yes, by Him in Whose hand my soul is, I shall take retaliation on him. I saw that the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) has given retaliation on himself.